مضمون نگار: سید مہد علی رضوی کلاس: ہفتم بہادر شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گِرتا پُر دَم ہے اگر تُو تو نہیں خطرۂ اُفتاد (علامہ اقبالؒ) بہادر اُس کو نہیں کہتے جو سامنے لگی آگ میں ہاتھ رکھ ڈال دے یا بہادر اُس کو بھی نہیں کہتے جو صرف اپنے مفاد کے لیے […]

مضمون نگار: سید مہد علی رضوی
کلاس: ہفتم

بہادر

شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گِرتا
پُر دَم ہے اگر تُو تو نہیں خطرۂ اُفتاد

(علامہ اقبالؒ)

بہادر اُس کو نہیں کہتے جو سامنے لگی آگ میں ہاتھ رکھ ڈال دے یا بہادر اُس کو بھی نہیں کہتے جو صرف اپنے مفاد کے لیے شمشیر اٹھائے اور اُس کو دشمن و منافق میں فرق کرنا ہی نہ آئے۔وہ انسان بھی بہادر کہلانے کا حق نہیں رکھتا جو صرف اپنے نام کی تشہیر کے لیے لڑے۔بہادر وہی کہلاتا ہے جو تیغ سے زیادہ ایمان مضبوط کرے، جو شمشیر کی جگہ ایمان سے لڑے، جو بغیر کسی لالچ کے لڑےکیونکہ جو اپنے دل میں خوفِ الہیٰ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے دل سے باقی تمام خوف نکال دیتا ہے۔
یوں تو تاریخ میں بہت سے بہادر گزرے ہیں مگر حضرت علیؑ سے زیادہ اس دنیا میں کوئی نہیں گزرا۔ان کی بہادری پورے عالمِ اسلام کے لیے بے مثال نمونہ ہے۔آپؑ کی مشہور تلوار ذوالفقار کو تمام تلواروں میں برتری حاصل ہے۔مولا علیؑ اتنے بہادر تھے کہ ان کا لقب حیدرِ کرار اور اسد اللہ پڑ گیا۔اسد اللہ کا مطلب ہے خدا کا شیر۔حضرتؑ نے عملی طور پر ثابت بھی کیا کہ وہ اسد اللہ ہیں۔آپؑ بغیر کسی خوف و خطر کافروں کے لشکر تباہ و برباد کر دیتے۔آپؑ کی تلوار دشمنوں پر قہر بن کر ٹوٹتی۔ اسی لیے علامہ اقبالؒ نے فرمایا
کبھی تنہائیِ کوہ و دمن عشق
کبھی سوز و سرُور و انجمن عشق
کبھی سرمایۂ محراب و منبر
کبھی مولا علیؓ خیبر شکن عشق!
آپ ؑ نے ایک مرتبہ فرمایا
“منافق کے ساتھ ہمدردی دشمن کی تلوار سے زیادہ خطرناک ہے”
کسی بہادر کی سب سے اہم نشانی یہ ہے کہ اسے دشمن اور وفادار میں آسانی سے فرق کرنا آتا ہے۔دشمن سامنے سے وار کرتا ہے مگر غدار چھپ کر۔سامنے والے کا مقابلہ آسانی سے کیا جا سکتا ہے مگر جو چھپ کر ہماری پیٹھ پیچھے وار کرے اُسے سمجھنا بہت مشکل ہے۔
جذبہء شہادت کسی بہادر کی سب سے اہم صفت ہے۔بہادر کبھی موت سے نہیں ڈرتاا ور اپنی جان کی پروا کیے بغیر لڑتا ہے ۔ضروری نہیں کہ صرف اپنے ملک یا زمین کی خاطر میدانِ جنگ میں اترا جائے،جو کسی مظلوم کی جان بچاتے ہوئے بھی فوت ہو جائے تو شہید کہلاتا ہے۔حضرت امام حسینؑ نے بھی دینِ حق کو بچانے کے لیے جامِ شہادت نوش فرمایا۔
ایک سچا بہادر ہمیشہ کامیابی کے خواب دیکھتا ہے اور اُسے پورا کرنے کے لیے بھرپور کوشش کرتا ہے اس لیے کہ
“جس کا کوئی خواب نہیں، اس کا کوئی مستقبل نہیں”
ہمار اماضی بہت شاندار ہے اور قربانیوں سے بھرا پڑا ہے۔مگر یاد رہے! ہمارے اسلاف کی داستانیں بچوں کو سلانے کے لیے نہیں بلکہ خوابِ غفلت سے جگانے کے لیے ہیں۔جووالدین اپنے بچوں کو رات کے وقت کہانیاں سناتے ہیں انھیں چاہیے کہ وہ تاریخ کے اوراق سے مشاہیرِ اسلام کی داستانیں تلاش کر کے اپنے بچوں کو سنائیں تا کہ ویسا ہی جذبہ ان میں بھی پیدا ہو۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked (required)