(نمرہ مرتضیٰ( کلاس ہفتم) (شخصی خاکہ(میرےابّو) وہ ایک سفید پوش خاندان میں پیدا ہوئے جہاں مال و زر کی کمی تو ضرور تھی مگر روایات کا پاس بدرجہ اتم موجود تھا۔انھیں بچپن ہی میں خالق اور مخلوق کے تصور سے جوڑ دیا گیا۔اُن کی خوش بختی تھی کہ انھیں ایسے والدین اور اجداد ملے جن […]

(نمرہ مرتضیٰ( کلاس ہفتم)

(شخصی خاکہ(میرےابّو)

وہ ایک سفید پوش خاندان میں پیدا ہوئے جہاں مال و زر کی کمی تو ضرور تھی مگر روایات کا پاس بدرجہ اتم موجود تھا۔انھیں بچپن ہی میں خالق اور مخلوق کے تصور سے جوڑ دیا گیا۔اُن کی خوش بختی تھی کہ انھیں ایسے والدین اور اجداد ملے جن پر وہ بجا طور پر فخر کر سکتے تھے۔ایمان کی دولت وہاں عام تھی۔اخوت کے رشتوں ناطوں سے انھیں آشنائی بچپن سے ہی ہو گئی تھی۔وہ اپنے محلے، اسکول، گاؤں اور قصبے میں اپنے اصولوں ، اپنے صالح اعمال اور نیک نیتی کی وجہ سے لڑکپن میں ہی جانے پہچانے گئے اور پھر انھیں اپنے والدین کی دعاؤں سے پاکستان فوج میں کمیشنڈ افسر بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔فوج میں اپنی بہترین خدمات سر انجام دیتے ہوئے انھیں سیاچن کے محاذ پر غازی ہونے کا شاندار مقام بھی حاصل ہوا۔انھیں بچپن ہی سے ایک معلم کا کردار بہت پسند تھا۔اُن کی روح میں نبی کریمﷺ کی محبت رچی بسی ہوئی تھی۔وہ اپنے ہر عمل کو اسوۂ حسنہ کے مطابق کرنے کی کوشش کرتے اور احیاء اسوۂ حسنہ کو انھوں نے اپنی زندگی کا مشن بنا لیا۔اس کےلیے انھوں نے روح فورم بنایا اور اپنے تمام خاندان کے افراد کو ، اپنے تمام حلقۂ احباب کو اس مشن میں شامل کرنے کی کوشش کی۔وہ ترجمانِ اسوۂ حسنہ، حکیم الامتؒ کے افکار سے بھی سرشار تھےاور چاہتے ہیں کہ پوری امتِ مسلمہ اس حکمت کے خزانے کو پالے اور ایک بہترین ملت بن کر سامنے آئے۔قوتِ عشق اُن کا سب سے بڑا یقین ہے کیونکہ حکیم الامتؒ کا دعویٰ ہے:

قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے

دہر میں اسمِ محمدﷺ سے اجالا کر دے

محمدﷺ سے وفا اور آپﷺ کی اتباع اُن کا ایمان ہے اور وہ علامہ اقبالؒ کے اس دعوے کے پاسدار ہیں؛

کی محمد ﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

انھوں نے بچوں کی بنیادی تعلیم پر بہت کام کیا اور ایک ادارہ آبروئے ملت کے نام سے بنا ڈالا تا کہ ملت کی آبرومندی کا اہتمام بنیاد سے ہی ہو جائے۔ان کا مقصد ہے کہ تمام افراد کو مل کر ملت کو مضبوط کرنا ہے کیونکہ ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا

یہ شخصیت کوئی اور نہیں میرے پیارے بابا جان ہیں۔

میرے رہبر ہیں اور میرے کمال میں اپنی نجات دیکھتے ہیں

۔

(نوریہ عو( کلاس ہفتم)

(شخصی خاکہ( نمرہ مرتضیٰ- سب سے اچھی دوست)

میری دوست کا نام نمرہ مرتضیٰ ہے۔وہ 19 فروری 2008 کو دو بجے پیدا ہوئی۔وہ اپنی زندگی راو لپنڈی عسکری میں گزار رہی ہے۔اس کا ایک بھائی اور چار بہنیں ہیں جن کا نام علی، ایمن، فاطمہ اور نیہا ہے۔نمرہ ایمبلم کی ساتویں جماعت میں پڑتی ہے۔اس کا پسندیدہ مضمون  (S.St)معاشرتی علوم ہے اور اس کی بہترین دوست مائدہ ہے۔وہ ایک بہت محبت کرنے ، خیال رکھنے  اور تعاون کرنے  والی لڑکی  ہے ۔وہ بہت نیک دل ہے۔کبھی کبھی تنگ بھی کرتی ہے جب وہ مستی کرتی ہے تو  مزہ آتا ہے۔اسے برگر، پیزا وغیرہ بہت اچھے لگتے ہیں۔اگر اس کو کوئی چاکلیٹ دے تو وہ کھا لے گی۔ جب وہ کلاس میں نہ ہو تو مزا ہی نہیں آتا۔سائیکل چلانا، موسیقی سننا اور اسکیٹنگ کرنا اُس کے پسندیدہ مشاغل ہیں۔

۔۔۔۔

شخصی خاکہ-میرے والد

مصنفہ: ہانیہ،کلاس ہفتم

میرے والد میرے لیے بہترین نمونہ ہیں۔وہ 20 اکتوبر کو پیدا ہوئے۔میرے والد کا رنگ صاف ستھرا اور سفید ہے۔وہ بول چال میں ہنس مکھ اور خوش مزاج ہیں۔وہ جب بچوں کے ساتھ ہوتے ہیں تو اُن کے مزاج کے مطابق اور جب بڑوں کے ساتھ ہوتے ہیں تو اُن کے مزاج کے مطابق بات کرتے ہیں۔ہر قسم کی گفتگو کرتے ہیں۔میرےوالد کا رویہ  بہت دوستانہ ہے اور وہ دوسروں کے خیر خواہ ہیں۔ان کی اچھی عادات اور دوسروں کے ساتھ تعاون کرنے کی وجہ سے سب اُن کی عزت کرتے ہیں اور ہمیشہ ان کو اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔میں ان کے ساتھ گھنٹوں وقت گزارتی ہوں اور اپنے اسکول کے واقعات بیان کرتی ہوں۔میری زندگی کے یادگار لمحات میں سے سب سے اہم لمحہ یہ ہے کہ جب میں اُن کے ساتھ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے گئی، اُن کے ساتھ اتنا اچھا وقت گزارا کہ میں کبھی نہیں بھول سکتی۔مجھے میرے والد کی ایک عادت اور بھی پسند ہے کہ وہ کسی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے۔کوئی بھی شخص ان کے ساتھ اپنی پریشانی کا اظہار کرتا ہے تو وہ فورا اس کی مدد کےلیے تیار ہوجاتے ہیں۔

۔۔۔

 

(کہانی(فقیر تھا، امیر ہے)

کہانی کار –محمد شہیر

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک فقیر راولپنڈی میں رہا کرتا تھا۔وہ مری روڈ پر بھیک مانگتا تھا۔اس نے ایک دن وزن والی مشین لے لی۔وہ مشین کے ساتھ زمین پر بیٹھ گیا۔لوگ آتے تھے اور اپنا وزن   مشین میں دیکھ کر اُسے پیسے دیتے اور چلے جاتے۔دو سال بعد اُس نے ایک دکان کھول لی اور کچھ سالوں بعد ایک فیکٹری کا مالک بن گیا۔

سبق: محنت میں عظمت ہے۔

 

۔۔۔

(شخصی خاکہ(میرے نانا ابو)

مصنفہ: مائدہ-کلاس ہفتم

یہ شخصی خاکہ میں ایک ایسی شخصیت پہ لکھ رہی ہوں جو مجھے بہت عزیز تھے اور وہ اس دنیا سے چلے گئے ۔ان کی شخصیت میرے لیے بہت اہم تھی اور وہ میرے لیے بہت محترم تھے۔جب وہ چار سال کے تھے تو وہ یتیم ہو گئے۔وہ ایک اچھے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔وہ 5 جنوری 1938 کو پیدا ہوئے۔اُن کا مشغلہ کتابیں پڑھنا تھا اور اس کے علاوہ انھیں باغبانی کا بھی شوق تھا۔انھیں طرح طرح کے پھول لگانے کا بہت شوق تھا۔

اُن کے گھر میں ایک لائبریری بھی ہے ۔اُن کا پسندیدہ مضمون اردو اور فارسی تھا اور وہ روز صبح اٹھ کر قرآن پاک کی تلاوت کرتے تھے۔اُن کے پسندیدہ شاعر علامہ اقبالؒ تھے۔

ان کی نوکری پی ٹی وی میں ایک اسکرپٹ رائٹر  اور پروڈیوسر کی تھی۔وہ میرے ساتھ بہت پیار کرتے تھے اور مجھے اُن کے ساتھ بہت مزہ آتا تھا۔وہ سب بچوں سے بہت پیار کرتے تھے۔جس دن وہ اس دنیا سے گئے وہ میرے لیے بہت دکھ بھرا دن تھااور اُس دن میں بہت روئی کیونکہ وہ ہم سے بہت دور جا چکے تھے۔لیکن آج بھی وہ ہمارے دل میں زندہ ہیں۔

وہ ہمیشہ نماز پڑھنے کی تعلیم دیتے تھے اور قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھنے کا کہتے تھے۔دنیاوی تعلیم کے علاوہ انھیں دینی تعلیم کا بھی شوق تھا۔اس دنیا میں انھوں نے بہت بلند مقام حاصل کیا۔

یہ شخصیت اور کوئی نہیں بلکہ میرے پیارے نانا ابو ہیں۔

۔۔

(کہانی (محنت کا اجر)

کہانی نویس: نمرہ مرتضیٰ

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک چھوٹے سے گھر میں دو بہن بھائی ماہین اور حسین رہتے تھے  ۔اُس گھر کا گزر بسر بہت مشکلوں سے ہوتا تھا۔بچوں کو تعلیم کی سہولت بھی میسر نہ تھی۔ان کے بابا پورا دن محنت مزدوری کرکے صرف 500 روپے کماتے تھے جس سے گھر کا گزارا چلتا تھا۔ماہین کو پڑھنے لکھنے کا بہت شوق تھا اور بچپن سے اس کا خواب تھا کہ وہ پڑھ لکھ کر پانے گھر کو سنبھالے اور اپنے بابا جان کو آرام دے۔اس کی دوست سارہ ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اور پڑھی لکھی بھی تھی۔ماہین کے دماغ میں ایک ترکیب سوجھی اور اس نے یہ سوچا کہ کیوں نہ وہ اپنے گھر یہ بتا کر جائے کہ وہ   اپنی سہیلی کے گھر جا رہی ہے لیکن اصل میں وہ روز اسکول جایا کرے اور پھر اسکول سے چھٹی کے بعد کچھ گھروں میں کام کر کے کمائی کرے اور اُسی سے اسکول کی فیس ادا کرے۔

ماہین نے بالکل ایسا ہی کیا۔اسکول میں دل لگا کر محنت سے پڑھتی تھی۔اس کے اساتذہ بھی اُس سے بہت متاثر تھے۔کچھ عرصے کے بعد ماہین کو اسکالر شپ مل گیا اور اس  کی خوشی کی انتہا نہ تھی۔اس نے اپنے خاندان کو گھر آکر سب کچھ بتایا۔اس کی امی اور ابو یہ سن کر بہت خوش ہوئے۔

کچھ سال بعد

ماہین اب ایک کامیاب ڈاکٹر ہے اور اس کا بھائی ایک انجینیر۔ماہین کو اس کی محنت کا صلہ ملا لیکن اُس نے غرور نہ کیا بلکہ آج وہ غریبوں کی بھی مدد کر رہی ہے اور اپنے ماں باپ کے لیے باعثِ فخر ہے۔

۔۔۔۔

(شخصی خاکہ(میرے دادا ابو)

مصنفہ: کشش-کلاس ہفتم

میرے دادا بہت اچھےانسان تھے۔اُن کا نام محمد عبد اللہ تھا۔وہ 1927 کو پاکستان کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔اُن کا قدر درمیانہ تھا اور بول چال میں اردو اور انگریزی میں مہارت رکھتے تھے۔انھوں نے تعلیم ایک گورنمنٹ کے اسکول سے حاصل کی ۔وہ کرکٹ اور ہاکی کے کھیل میں بہت  دلچسپی رکھتے تھے۔انھوں نے تعلیم حاصل کرنے کے بعد فوج میں دلچسپی لی۔اس دلچسپی کے باعث انھوں نے پاکستان کی دو جنگیں بھی لڑیں۔وہ پانچ وقت کے نمازی تھے اور وہ اپنی خوش اخلاقی کی وجہ سے لوگوں میں بہت عظیم انسان مانے جاتے تھے۔ہم اُن کو ہر موقع پر بہت یاد کرتے ہیں۔وہ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں دل کا اٹیک ہونے کی وجہ سے وفات پا گئے۔اُن کی تاریخ وفات 1970 ہے۔اللہ انھیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔آمین

۔

کہانی”نامور مصور”

کہانی نگار:حسان فہیم-کلاس ہفتم

عبید اپنے گھر کے کھلے صحن میں بیٹھا مصوری میں مصروف تھا کہ اچانک مرکزی دروازے پر دستک ہوئی۔عبید اپنا کام چھوڑ کر مرکزی دروازے کی طرف بڑھا۔دروازہ کھولا تو ایک اجنبی کو پایا۔عبید نے سلام کیا اور پوچھا:

آپ کون ہیں؟

اجنبی نے اپنا تعارف کروایا ہی تھا کہ عبیدکے ابو آن پہنچے اور اسلم صاحب کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔انھیں اندر لائے اور عبید سے کہا:

جاؤ بیٹا !امی سے کہو کہ اسلم صاحب کےلیے شربت بنائیں۔

اسلم صاحب اور ابو بات چیت میں مصروف تھے ۔عبید شربت لے کر کمرے میں داخل ہوا ہی تھی کہ اسلم صاحب نے پوچھا:

بیٹا! کیا یہ مصوری آپ نے کی ہے اور وہ دنگ رہ گئے۔

عبید نےجواب دیا

“جی انکل”ابو جان بولے:

عبید کو مصور ی کا بہت شوق ہے۔اکثر اوقات یہ مصوری میں مصروف رہتا ہے۔

اسلم صاحب بولے”ماشا اللہ بیٹے!آپ کے ہاتھوںمیں تو جادو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خوب ہنر عطا کیا ہے۔آپ اگر اسی طرح محنت کرتے رہے تو ان شاء اللہ ایک دن نامور مصور بن جاؤ گے”

جی شکریہ انکل۔میں بھی ایک بڑا اور مشہور مصور بننا چاہتا ہوں۔

عبید کا تعلق ایک غریب خاندان سے تھا۔اُس کے ابو کی آمدنی سے بمشکل گھر کا گزارا ہوتا تھا۔کم وسائل کی وجہ سے وہ عبید کے اس شوق پر زیادہ پیسے نہیں لگا سکتے تھے، یہی وجہ تھی کہ عبید اپنے ہنر کے باوجود زیادہ نام نہیں کما سکتا تھا۔

رات کھانے کے بعد اسلم صاحب نے عبید کو اپنے پاس بلوایا اور کہا:

عبید بیٹا! میں آپ کی مصوری سے بہت متاثر ہوا ہوں۔مجھے یقین ہے کہ آپ مستقبل میں ضرور ایک نامور مصور بنیں گے۔میں بھی ایک نامور مصور ہوں اور میں نے بھی اس راستے میں بہت سی مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا کیا ہے۔میرا تعلق بھی ایک غریب گھرانے سے تھا لیکن میں نے اپنے شوق کو پورا کرنے اور خواب کی تکمیل کے لیے ہر مشکل کا ہمت سے مقابلہ کیا ہے۔بیٹا! اب میں آپ جیسے مصوری کے شوقین بچوں  کے لیے ایک ادارہ چلا رہا ہوں ۔میرا ادارہ کم وسائل والے بچوں کو مفت مصوری سکھاتا ہے اور مزید وسائل بھی فراہم کرتا ہے۔آپ کے شوق کو دیکھتے ہوئے میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ادارے میں آ کر اپنے خواب کو پورا کریں۔

یہ سب سن کر عبید کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی اور اُس نے    آنے کا وعدہ کیا۔

عبید نے اسلم صاحب کے ادارے میں داخلہ لے لیا اور دن رات محنت کرنے لگا۔چند سالوں میں وہ بھی ایک نامور مصور بن گیا اور اپنے والدین اور ملک کا نام روشن کیا۔نامور مصور بننے کے بعد عبید جلد ہی اپنے گاؤں واپس آ گیا۔اس کے والدین اُس کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔گاؤں والوں نے اس کا خوشی خوشی استقبال کیا۔وہ بچوں کو مصوری سکھانے کے ساتھ ساتھ دوسرے ہنر بھی سکھاتا۔جلد ہی اُس کے ادارے کا نام دور دور تک پھیل گیا۔

۔۔۔

مضمون نگار: سید مہد علی رضوی

کلاس: ہفتم

(بہادر)

شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گِرتا
پُر دَم ہے اگر تُو تو نہیں خطرۂ اُفتاد

(علامہ اقبالؒ)

بہادر اُس کو نہیں کہتے جو سامنے لگی آگ میں ہاتھ رکھ ڈال دے – بہادر اُس کو بھی نہیں کہتے جو صرف اپنے مفاد کے لیے شمشیر اٹھائے اور اُس کو دشمن و منافق میں فرق کرنا ہی نہ آئے۔وہ انسان بھی بہادر کہلانے کا حق نہیں رکھتا  جو صرف اپنے نام  کی تشہیر کے لیے لڑے۔بہادر وہی کہلاتا ہے جو تیغ سے زیادہ ایمان مضبوط کرے، جو شمشیر کی جگہ ایمان سے لڑے، جو بغیر کسی لالچ کے لڑےکیونکہ جو اپنے دل میں خوفِ الہیٰ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے دل سے باقی تمام خوف نکال دیتا ہے۔

یوں تو تاریخ میں بہت سے بہادر گزرے ہیں مگر حضرت علیؑ سے زیادہ بہادر اس دنیا میں کوئی نہیں گزرا۔ان کی بہادری پورے عالمِ اسلام کے لیے بے مثال نمونہ ہے۔آپؑ کی مشہور تلوار ذوالفقار کو تمام تلواروں میں برتری حاصل ہے۔مولا علیؑ اتنے بہادر تھے کہ ان کا لقب حیدرِ کرار  اور اسد اللہ پڑ گیا۔اسد اللہ کا مطلب ہے خدا کا شیر۔حضرتؑ نے عملی طور پر ثابت بھی کیا کہ وہ اسد اللہ ہیں۔آپؑ بغیر کسی خوف و خطر کافروں کے لشکر تباہ و برباد کر دیتے۔آپؑ کی تلوار دشمنوں پر قہر بن کر ٹوٹتی۔ اسی لیے علامہ اقبالؒ نے فرمایا

کبھی تنہائیِ کوہ و دمن عشق
کبھی سوز و سرُور و انجمن عشق
کبھی سرمایۂ محراب و منبر
کبھی مولا علیؓ خیبر شکن عشق!

آپ ؑ نے ایک مرتبہ فرمایا

“منافق کے ساتھ ہمدردی دشمن کی تلوار سے زیادہ خطرناک ہے”

کسی بہادر کی سب سے اہم نشانی یہ ہے کہ اسے دشمن اور وفادار میں آسانی سے فرق کرنا آتا ہے۔دشمن سامنے سے وار کرتا ہے مگر غدار چھپ کر۔سامنے والے کا مقابلہ آسانی سے کیا جا سکتا ہے مگر جو  چھپ کر ہماری پیٹھ پیچھے وار کرے اُسے سمجھنا بہت مشکل ہے۔

جذبہء شہادت کسی بہادر کی سب سے اہم صفت ہے۔بہادر کبھی موت سے نہیں ڈرتاا ور اپنی جان کی پروا کیے بغیر لڑتا ہے ۔ضروری نہیں کہ صرف اپنے ملک یا زمین کی خاطر میدانِ جنگ میں اترا جائے،جو کسی مظلوم کی جان بچاتے ہوئے بھی فوت ہو جائے تو شہید کہلاتا ہے۔حضرت امام حسینؑ نے بھی دینِ حق کو بچانے کے لیے جامِ شہادت نوش فرمایا۔

ایک سچا بہادر ہمیشہ کامیابی کے خواب دیکھتا ہے اور اُسے پورا کرنے کے لیے بھرپور کوشش کرتا ہے اس لیے کہ

“جس کا کوئی خواب نہیں، اس کا کوئی مستقبل نہیں”

ہمار اماضی بہت شاندار ہے اور قربانیوں سے بھرا پڑا ہے۔مگر یاد رہے! ہمارے اسلاف کی داستانیں بچوں کو سلانے کے لیے نہیں بلکہ خوابِ غفلت سے جگانے کے لیے ہیں۔جووالدین اپنے بچوں کو رات کے وقت کہانیاں سناتے ہیں انھیں چاہیے کہ وہ تاریخ کے اوراق سے مشاہیرِ اسلام کی داستانیں تلاش کر کے اپنے بچوں کو سنائیں تا کہ ویسا ہی جذبہ ان میں بھی پیدا ہو۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked (required)